ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ماب لنچنگ کے شکار ایک عالم دین کی دردناک داستان ’مجھ سے زبردستی جئے شری رام کے نعرے لگوائے گئے، یہ بات پولیس نے ایف آئی آر سے غائب کر دی

ماب لنچنگ کے شکار ایک عالم دین کی دردناک داستان ’مجھ سے زبردستی جئے شری رام کے نعرے لگوائے گئے، یہ بات پولیس نے ایف آئی آر سے غائب کر دی

Mon, 01 Jul 2019 12:00:14    S.O. News Service

کولکتہ،یکم جولائی (ایس او  نیوز)   24سالہ حافظ محمد شاہ رخ دوسرے دنوں کی طرح ہی20جون کی دوپہر24 پرگنہ ضلع کے کیننگ سے سیالدہ اسٹیشن کے لئے لوکل ٹرین میں سوار ہوئے تھے۔پورے سفر میں سب کچھ ٹھیک ہی چل رہا تھا، لیکن کولکاتہ میں داخل ہوتے ہی ٹرین میں کچھ لوگ سوار ہو گئے اور ان سے ان کی ڈاڑھی، ٹوپی اور لمبے کرتے کے بارے میں جرح کرنے لگے۔محمد شاہ رخ بتاتے ہیں کہ ٹرین بالی گنج ریلوے اسٹیشن کو کراس کر چکی تھی کہ تبھی ایک شخص میرے پاس آیا اور مجھ سے پوچھنے لگا کہ میرے سر پر ٹوپی کیوں ہے، میں نے ڈاڑھی کیوں رکھی ہے، لمبا پنجابی (کرتہ) کیوں پہنا ہے؟ انہوں نے مجھے جئے شری رام بولنے کو بھی کہا-محمد شاہ رخ آگے کہتے ہیں کہ فوراً ہی اور بھی لوگ آ گئے اور مجھ سے گالی گلوج کرنے لگے۔ اسلام کو لیکر بھی قابل اعتراض باتیں کہیں۔ اس کے بعد ہی10سے15لوگ مجھ پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے میرا گلا دبانے کی بھی کوشش کی۔ میں نے کسی طرح ان کا ہاتھ چھڑا لیا اور ٹرین سے اترنے کی کوشش کی، مگر انہوں نے اترنے نہیں دیا۔ اسی بیچ پارک سرکس اسٹیشن آ گیا۔ ٹرین کی رفتار کافی دھیمی ہو گئی تھی، تبھی انہوں نے مجھے لات مارکر نیچے گرا دیا۔ اس وقت ٹرین میں اور بھی لوگ تھے، لیکن کسی نے بھی آگے بڑھ کر ان کی مخالفت نہیں کی۔ اسٹیشن پر موجود کچھ مسافروں نے ان کو فرسٹ ایڈ دیا۔ طبیعت ذرا ٹھیک ہونے کے بعد شکایت درج کرانے کے لئے تپسیا تھانے میں گیا، تو انہوں نے بالی گنج جی آر پی میں شکایت کرانے کی بات کہی کیونکہ جائے واردات جی آر پی کے حلقہ اختیار میں آتا ہے۔تپسیا تھانے کے افسروں نے کہا کہ انہوں نے فوراً بالی گنج جی آر پی کو فون لگایا، تو وہ یہاں آئے اور متاثرہ کو جی آر پی تھانے لے گئے۔ بالی گنج جی آر پی میں ان کا بیان لیکر نامعلوم لوگوں کے خلاف شکایت درج کی گئی۔محمد شاہ رخ کیننگ سے تقریباً100کلومیٹر دور ہگلی ضلع کے حیات پور کے ایک مدرسے میں استاد ہیں اور عربی پڑھاتے ہیں۔ وہ پچھلے ایک سال سے اس مدرسے میں پڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ شکایت درج ہونے کے ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی ایک بھی ملزم پولیس کی گرفت میں نہیں آ سکا ہے۔ جبکہ محمد شاہ رخ نے بتایا تھا کہ حملہ آور کس تنظیم سے جڑے ہوئے تھے۔محمد شاہ رخ نے کہا کہ حملہ آوروں نے سر پر کپڑا باندھ رکھا تھا، جس پر ہندو سنہتی (Hindu Sanhati)لکھا ہوا تھا۔ ہندو سنہتی ایک رائٹ ونگ مذہبی تنظیم ہے، جو تقریباً ایک دہائی سے جنوبی24پرگنہ میں فعال ہے۔ ہندو سنہتی کے اہلکاروں نے یہ قبول کیا ہے کہ20جون کو ان کے کارکن مذکورہ لوکل ٹرین میں سوار تھے۔ ہندو سنہتی کی طرف سے20جون کو شیا م بازار میں پشچم بنگ دیوس منایا جا رہا تھا۔ اسی پروگرام میں شامل ہونے کے لئے جنوبی24پرگنہ کے کیننگ اور دیگر اسٹیشنوں سے تنظیم کے کارکن ٹرین میں سوار ہوئے تھے۔ٹائمس آف انڈیا کے ساتھ بات چیت میں ہندو سنہتی کے دیوتانو بھٹاچاریہ نے کہا ہے کہ ٹرین میں ہمارے حمایتی جھنڈا لہرا رہے تھے اور نعرے بازی کر رہے تھے۔ محمد شاہ رخ کی طرف سے بالی گنج میں درج کرائی گئی شکایت میں مارپیٹ کا ذکر تو ہے، لیکن ان کے لباس کو لیکر تبصرہ کرنے اور جئے شری رام کے نعرے لگوانے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔بالی گنج جی آر پی کے ایک افسر نے بتایا کہ شکایت میں ٹرین میں سوار ہونے اور اترنے کو لے کر مارپیٹ کی بات کہی گئی ہے۔ مذہبی نعرہ لگانے زبردستی کرنے اور لباس پر سوال اٹھانے کا ذکر نہیں ہے۔اس بابت محمد شاہ رخ نے کہا کہ پولیس نے جان بوجھ کر مذہبی نعرہ لگانے کے لئے زبردستی کرنے اور لباس پر سوال اٹھانے کا ذکر نہیں کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ پولیس نے مجھ سے بیان نہیں لکھوایا تھا بلکہ اس نے میرے بھائی سے کہا کہ میں نے پولیس کو سب کچھ بتا دیا ہے، اس لئے وہ (پولیس افسر) جو کہہ رہے ہیں وہی لکھا جائے۔ پولیس جب بیان لکھوا رہی تھی، تو مجھے تھانے سے یہ کہہ کر باہر کر دیا گیا تھا کہ میری صحت ٹھیک نہیں ہے۔ میرے ساتھ جو ہوا ہے، وہ میں نے سبھی میڈیا کو بتایا ہے-اس واقعہ کے بعد سے محمد شاہ رخ مدرسہ نہیں جا رہے ہیں -


Share: